MOJ E SUKHAN

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں

غزل

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں
یعنی تقدیر ستارے سے اٹھا سکتی ہوں

اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوں تجھے کیا لگتا تھا
خود کو بس تیرے سہارے سے اٹھا سکتی ہوں

آنکھیں مشتاق ہزاروں ہیں مگر سوچ کے رکھ
تیری تصویر نظارے سے اٹھا سکتی ہوں

راکھ ہو جائے محبت کی حویلی پل میں
اک تباہی میں شرارے سے اٹھا سکتی ہوں

میں اگر چاہوں تو جینے کی اجازت دے کر
زندگی تجھ کو خسارے سے اٹھا سکتی ہوں

اسم پڑھنے کا ارادہ ہو تو فرصت میں سحرؔ
میں تجھے دل کے شمارے سے اٹھا سکتی ہوں

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم