MOJ E SUKHAN

آسماں سرخ ہوا نالۂ شب گیر کے بعد

غزل

آسماں سرخ ہوا نالۂ شب گیر کے بعد
حال دل اس پہ کھلا ہے بڑی تاخیر کے بعد

طلب خواب میں کتنی تھیں پریشاں آنکھیں
کتنی حیران ہیں اب خواب کی تعبیر کے بعد

کھل تو سکتے تھے مری آنکھ پہ منظر کئی اور
میں نے دیکھا ہی نہیں کچھ تری تصویر کے بعد

زندگی کٹتی رہی اور مرے پیروں میں
ایک زنجیر پڑی دوسری زنجیر کے بعد

معرکہ اب کے محبت میں عجب گزرا ہے
ہاتھ خالی ہی رہے لمحۂ تسخیر کے بعد

کوچۂ حرف میں یہ جان کے آئے خاورؔ
میرؔ سا میرؔ سے پہلے نہ ہوا میر کے بعد

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم