MOJ E SUKHAN

آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے

غزل

آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے
یعنی ہوائے باغ جنوں خیز ابھی سے ہے

جوش طلب ہی موجب درماندگی نہ ہو
منزل ہے دور اور قدم تیز ابھی سے ہے

کیا ارتباط حسن و محبت کی ہو امید
وہ جان شوق ہم سے کم آمیز ابھی سے ہے

ترتیب کارواں میں بہت دیر ہے مگر
آوازۂ جرس ہے کہ مہمیز ابھی سے ہے

پہلی ہی ضرب تیشہ سے کوہ گراں ہے چور
حسرت مآل سطوت پرویز ابھی سے ہے

کیا جانے میکشوں کا ہو کیا حشر صبح تک
ساقی کی ہر نگاہ دل آویز ابھی سے ہے

یہ ابتدائے شوق یہ پر شوق دل مرا!
اک جام آتشیں ہے کہ لبریز ابھی سے ہے

تابشؔ بھری بہار میں کوئی بچھڑ گیا
اب کے چمن میں بوئے خزاں تیز ابھی سے ہے

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم