MOJ E SUKHAN

آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں

غزل

آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں
حادثے یہ تو یہاں روز ہوا کرتے ہیں

ان کے دل میں بھی کوئی کھوج تو پنہاں ہوگی
یہ پرندے جو ہواؤں میں اڑا کرتے ہیں

خون کا رنگ لئے گرم دھوئیں کے بادل
سرد اخبار کے سینے سے اٹھا کرتے ہیں

ان اندھیروں میں کوئی راہ تو روشن ہوتی
یہ ستارے تو ہر اک رات جلا کرتے ہیں

ہار کے زخم کبھی جیت کی لذت بھی کبھی
ہم تصور میں کئی کھیل رچا کرتے ہیں

جن کے چہروں پہ کوئی دھوپ نہ سایا کوئی
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے ہیں

دن کے صحرا میں جسے ڈھونڈ نہ پائیں فکریؔ
شب کے جنگل میں وہ آواز سنا کرتے ہیں

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم