MOJ E SUKHAN

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

غزل

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے
برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے

تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا احساس مگر اب
جینے کے لئے اور سہارے نکل آئے

میں نے تو یونہی ذکر وفا چھیڑ دیا تھا
بے ساختہ کیوں اشک تمہارے نکل آئے

جب میں نے سفینے میں ترا نام لیا ہے
طوفان کی باہوں سے کنارے نکل آئے

ہم جاں تو بچا لاتے مگر اپنا مقدر
اس بھیڑ میں کچھ دوست ہمارے نکل آئے

جگنو انہیں سمجھا تھا مگر کیا کہوں منصورؔ
مٹھی کو جو کھولا تو شرارے نکل آئے

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم