MOJ E SUKHAN

آنکھوں میں فقط خواب ہیں تعبیر نہیں ہے

آنکھوں میں فقط خواب ہیں تعبیر نہیں ہے
لگتا ہے کسی خواب کی تعمیر نہیں ہے

اک عکس مسلسل مری تنہائی کے پیچھے
رہتا ہے مگر پاؤں میں زنجیر نہیں ہے

میدان محبت میں مقابل ہے زمانہ
لڑنے کے لیے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہے

دیوار محبت پہ کہیں عکس ہے ترا
لٹکی ہوئی دیوار پہ تصویر نہیں ہے

افسوس کہ قرطاس پہ لکھتا تری باتیں
لفظوں میں مگر درد کی تاثیر نہیں ہے

سب عشقِ کے مارے ہیں یہاں کارسفر میں
اس عالمِ حیرت میں وفا گیر نہیں ہے

بنتے ہیں یہاں میر بھی غالب بھی بہت لوگ
اس شہر میںں ایسا تو کوئی میر نہیں ہے

کہتے ہیں محبت میں رضا کچھ نہیں رکھا
لکھی ہوئی ایسی کوئی تحریر نہیں ہے

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم