MOJ E SUKHAN

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکے

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکے
دل میں ہزار زخم تھے جو نہ انہیں دکھا سکے

گھر میں جو اک چراغ تھا تم نے اسے بجھا دیا
کوئی کبھی چراغ ہم گھر میں نہ پھر جلا سکے

شکوہ نہیں ہے عرض ہے ممکن اگر ہو آپ سے
دیجے مجھ کو غم ضرور دل جو مرا اٹھا سکے

وقت قریب آ گیا حال عجیب ہو گیا
ایسے میں تیرا نام ہم پھر بھی نہ لب پہ لا سکے

اس نے بھلا کے آپ کو نظروں سے بھی گرا دیا
ناصر خستہ حال پھر کیوں نہ اسے بھلا سکے

حکیم ناصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم