MOJ E SUKHAN

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں
حصے میں اپنے صرف غبار آئے یہ نہیں

کوئے غم حیات میں سب عمر کاٹ دی
تھوڑا سا وقت واں بھی گزار آئے یہ نہیں

خود عشق قرب جسم بھی ہے قرب‌‌ جاں کے ساتھ
ہم دور ہی سے ان کو پکار آئے یہ نہیں

آنکھوں میں دل کھلے ہوں تو موسم کی قید کیا
فصل بہار ہی میں بہار آئے یہ نہیں

اب کیا کریں کہ حسن جہاں ہے عزیز ہے
تیرے سوا کسی پہ نہ پیار آئے یہ نہیں

وعدوں کو خون دل سے لکھو تب تو بات ہے
کاغذ پہ قسمتوں کو سنوار آئے یہ نہیں

کچھ روز اور کل کی مروت میں کاٹ لیں
دل کو یقین وعدۂ یار آئے یہ نہیں

جاں نثار اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم