MOJ E SUKHAN

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں
ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں

ساتھ اپنا وفا میں نہ چھوٹے کبھی پیار کی ڈور بندھ کر نہ ٹوٹے کبھی
چھوٹ جائے زمانہ کوئی غم نہیں ہاتھ تیرا رہے بس میرے ہاتھ میں

رت ہے برسات کی دیکھو ضد مت کرو رات اندھیری ہے بادل ہیں چھائے ہوئے
رک بھی جاؤ صنم تم کو میری قسم اب کہاں جاؤ گے ایسی برسات میں

ہے تری یاد اس دل میں لپٹی ہوئی ہر گھڑی ہے تصور تیرے حسن کا
تیری الفت کا پہرہ لگا ہے صنم کون آئے گا میرے خیالات میں

جس طرح چاہے وہ آزما لے ہمیں منتظر ہیں بس ان کے اشارے کے ہم
مسکرا کر فناؔ وہ طلب تو کریں جان بھی اپنی دے دیں گے ہم تو سوغات میں

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم