MOJ E SUKHAN

آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی

غزل

آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی
ہم نے پھر عشق کیا اور پشیمانی ملی

دل نے کیا پایا محبت میں بجز درد فراق
روح کو زخم ملا زخم کو تابانی ملی

ایک منظر نے پلٹ کر سر منظر دیکھا
مجھ کو حیرانی تجھے آئنہ سامانی ملی

رات اک سجدۂ حیران جہاں رکھا تھا
صبح واں درد سے پھٹتی ہوئی پیشانی ملی

بہہ گئی تھی جو کبھی سیل جمال کن میں
موج در موج اسی چشم کی حیرانی ملی

وہ جسے ترک کیا تو نے تعلق کی طرح
ہم کو اس ہجر کے بدلے میں غزل خوانی ملی

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم