MOJ E SUKHAN

آنکھ کے زندان میں رکھا گیا

Aankh kay zandaan Main Rakha Gaya

غزل

آنکھ کے زندان میں رکھا گیا
ہجر کو امکان میں رکھا گیا

دل کے اندر کیا جگہ خالی نہیں؟
درد کو دالان میں رکھا گیا

ہائے دوہری ہو گئی میری کمر
ایسا کیا سامان میں رکھا گیا

زندگی کر لی گئی اغوا مری
اور مجھے تاوان میں رکھا گیا

پوچھتی پھرتی ہوں سارے شہر سے
کیوں دیا طوفان میں رکھا گیا

فلسفہ کیا ہے کہ کل زہرا بتول
زخم روشندان میں رکھا گیا

زہرابتول

Zehra Batool

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم