MOJ E SUKHAN

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

غزل

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا
خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا

کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے
کچھ آنسوؤں نے پیار کو بد نام کر دیا

جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بک گئے
ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا

دل کو بچا کے رکھا تھا دنیا سے آج تک
لے آج ہم نے یہ بھی ترے نام کر دیا

تم نے نظر جھکا کے جہاں بات کاٹ دی
ہم نے وہیں فسانے کا انجام کر دیا

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم