MOJ E SUKHAN

آپ نے اب تک مری دریا دلی دیکھی نہیں

غزل

آپ نے اب تک مری دریا دلی دیکھی نہیں
آنکھ سونی پڑ گئی ہے بات بھی ہوتی نہیں
تو یہ سمجھے یا نہ سمجھے بات بس! اتنی سی ہے
مے کشی تو ٹھیک ہے پر دل لگی اچھی نہیں
راستہ تبدیل کرنا پڑ گیا ہے اس لیے
جنگ ہر میدان میں مظلوم سے ہوتی نہیں
آپ کو مجھ سے محبت ہے تو اب میں کیا کروں
ہر کسی کے عشق میں پاگل میں ہو سکتی نہیں
چھوٹ دے کر شر پسندوں کو یہاں رب نے مرے
ہاتھ میں زنجیر پکڑی ہے ابھی کھینچی نہیں
خواب گاہِ زیست میں وہ ہے نہ اس کی یاد ہے
اس لیے بھی دشت سے اب واپسی ہوگی نہیں
زندگی اس کی بدولت ہی تو روشن ہے عمود
اور کسی خواہش کا میں اظہار کرسکتی نہیں
عمود ابرار احمد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم