MOJ E SUKHAN

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

غزل

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو
روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو

ایک شعلہ میری آواز میں لہراتا ہے
خون میں لہر خیالوں میں للک پیدا ہو

قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں
تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو

اس طرح اپنی ہی سچائی پر اصرار نہ کر
یہ نہ ہو اور تری بات میں شک پیدا ہو

مجھ سے بہتے ہوئے آنسو نہیں لکھے جاتے
کاش اک دن میرے لفظوں میں لچک پیدا ہو

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم