MOJ E SUKHAN

آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی

غزل

آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی
دو گھڑی کو تو روشنی ہوتی

لوگ ملتے نہ جو نقابوں میں
کوئی صورت نہ اجنبی ہوتی

پوچھتے جس سے اپنا نام ایسی
شہر میں ایک تو گلی ہوتی

بات کوئی کہاں خوشی کی تھی
دل کو کس بات کی خوشی ہوتی

موت جب تیرے اختیار میں ہے
میرے قابو میں زندگی ہوتی

مہک اٹھتا نگر نگر خاورؔ
دل کی خوشبو اگر اڑی ہوتی

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم