MOJ E SUKHAN

آہیں منہ سے مرے نکلنے دو

غزل

آہیں منہ سے مرے نکلنے دو
درد میں کروٹیں بدلنے دو

قفس جسم سے نکلنے دو
مرغ جاں کا بھی دل بہلنے دو

رونے والے جہان کے روتے ہیں
میرے آنسو بھی کچھ نکلنے دو

غصہ کے وقت غیظ بھی کرنا
منہ سے کچھ بات تو نکلنے دو

سب تو قیدیں تھیں زندگی کیسی
دم کو تو جسم سے نکلنے دو

مہندی ملتے ہو تم جو غیروں میں
کف افسوس ہم کو ملنے دو

زندے مردے تو مردے زندہ ہوں
فتنۂ حشر کو تو چلنے دو

چونٹے ہاتھوں سے کیوں چھڑاتے ہو
مار گیسو کا سر کچلنے دو

دل پسے گا خود ان کا مثل حنا
لاش کشتوں کی تو کچلنے دو

بوسے سیب ذقن کے دو ہم کو
شجر آرزو کو پھلنے دو

حال کہتا ہوں بے قراروں کا
دل بیتاب کو سنبھلنے دو

دل ہدف ہوں گے آسمانوں کے
ناوک آہ کو تو چلنے دو

نہ کرو ترک شغل بوس و کنار
دو گھڑی دل ذرا بہلنے دو

لاکھوں ہوں گے اسی ادا سے شہید
لے کے تلوار تو ٹہلنے دو

بوسے رک رک کے دو نہ وصلت میں
دل کے ارمان تو نکلنے دو

دم بھی ہو جائے گا ہوا میرا
منہ سے ہو تو مرے نکلنے دو

حشر برپا کریں گے دیوانے
اک ذرا قبر سے نکلنے دو

شوق سے چاک چاک دل کو کرو
تیغ ابرو کا وار چلنے دو

لوٹتے ہوں گے سیکڑوں بسمل
کوئے قاتل میں تیغ چلنے دو

دیکھو کہتا ہوں حال درد جگر
اک ذرا دل کو تو سنبھلنے دو

میرے پہلو میں بھی کبھی ہو گے
دہر کو کروٹیں بدلنے دو

حلق رکھیں گے دوڑ کر مشتاق
تیغ کاٹھی سے تو نکلنے دو

بوسہ دیتے ہی پھر پڑے گا تمہیں
دل ناداں کو تو مچلنے دو

سنگ رکھو نہ میری چھاتی پر
قبر میں کروٹیں بدلنے دو

فاخرؔ اشکوں سے کیوں بجھاتے ہو
آہ سوزاں سے دل کو جلنے دو

فاخر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم