MOJ E SUKHAN

آہ کو تھی جو کبھی حسرت تاثیر سو ہے

غزل

آہ کو تھی جو کبھی حسرت تاثیر سو ہے
تھی جو بگڑی ہوئی عشاق کی تقدیر سو ہے

دل میں اس کے نہ ہوئی راہ کسی صورت سے
تھی جو تقدیر میں ناکامیٔ تدبیر سو ہے

مل کے دیکھا تو وہ کچھ اور ہی نکلا لیکن
دل میں اک اس کی بنائی تھی جو تصویر سو ہے

آپ کے ظلم سے پہلے بھی خدا شاہد ہے
یوں ہی رہتی تھی طبیعت مری دلگیر سو ہے

شہر الفت کی تباہی کی نشانی اے دوست
دل کی تھی ایک ہی اجڑی ہوئی تعمیر سو ہے

ان سے کرتا ہوں وفا اس پہ جو چاہیں سو کہیں
تھی ہمیشہ سے یہی اک مری تقصیر سو ہے

تھا کبھی پہلے نہ آزاد نہ اب ہوں میں جلیلؔ
عشق کی تھی جو مرے پیر میں زنجیر سو ہے

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم