MOJ E SUKHAN

آیا تھا جس طرف سے مسافر ادھر گیا

آیا تھا جس طرف سے مسافر ادھر گیا
نادان کہہ رہے ہیں فلانا گزر گیا

الزام یونہی آ گیا شبنم غریب پر
گل چشم تر ہی آتا تھا اور چشمِ تر گیا

کچھ کم نہیں ہے قوتِ دل کا یہ معجزہ
ترکش سے تیر اڑ کے بلا بال و پر گیا

نہ جانے شہریار کے دل میں ہے چور کیا
جب بھی کہا سخن کوئی سچا بپھر گیا

اے شاد تو نے شعر کہے ہیں بہت ہی خوب
تیرا سخن ہر ایک کے دل میں اتر گیا

شاد بہٹوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم