نظم
آ مِل کر دونوں خواب بُنیں
سب رنگ ملا کر چاہت کے
احساس کی آنچ پہ گرم کریں
خوابوں کی مٹی نرم کریں
پھر پلکوں سے مہتاب چُننیں
آمِل کر دونوں خواب بُنیں
دے ریشم ، شیریں لفظوں کا
دے لہجہ ، دریاؤں جیسا
دے کومَلتا ، اِن ہاتھوں کی
دے رِم جِھم بارش باتوں کی
میں سوچ کے چرخے پر رکھوں
اشعار سے اُن کو گِرہیں دوں
کچھ خواب حسیں ایسے کاتوں
کہ دھاگا دھاگا گانے لگے
بے باک نظر شرمانے لگے
چہرے سے ہاتھ لِپٹ جائیں
پلکوں میں خواب سِمٹ جائیں
دھڑکن میں کچھ تیزی آئے
دِل سورہِ عشق کو دوہرائے
تُو کان دَھرے جب اُس دُھن پر
آواز سہانی سرگم کی
سا۔ رے۔گا ، رے۔گا ، گا۔رے۔سا
ایسے ماحول میں لے جائے
تتلی و جگنو رقص کریں
پتے پھولوں کے بوسے لیں
چاروں جانب پنچھی گائیں
خوشیوں کے فرشتے آ جائیں
ہم ہنستے ہنستے, دُکھ رو لیں
روتے روتے آنکھیں کھولیں
یوں آنکھوں آنکھوں میں بولیں
کہ ہم اک دوجے کے ہو لیں
پلکوں سے سارے درد چُنیں
خاموشی کی آواز سُنیں
چل خواب مِرے شہباز بُنیں
چل خواب مِرے شہباز بُنیں
شہباز نیّر