MOJ E SUKHAN

ابرو نے چشم ناز نے مژگان یار نے

ابرو نے چشم ناز نے مژگان یار نے
گھائل کیا مجھے انہیں دو تین چار نے

واعظ غرض یہ تھی کہ در بت کدہ پہ ہم
در پردہ کل گئے تھے کسی کو پکارنے

عاشق ہزاروں صورت پروانہ گر پڑے
الٹی نقاب رخ سے جو محفل میں یار نے

سودا رہا کہ عشق بتاں میں ہے فائدہ
ہم کو کیا تباہ اسی کار و بار نے

کیوں بار بار جائیں نہ ہم کوئے یار میں
مجبور کر دیا ہے دل بے قرار نے

لازم نہیں بتو تمہیں دعویٰ خدائی کا
پیدا کیا ہے اس لئے کیا کردگار نے

مجبور ہو کے بیٹھ رہے کوئے یار میں
ہم کو جواب دے دیا جب اختیار نے

دل بہر نذر یار کے آگے جو لے گئے
بولا کہ آپ لائے ہیں صدقہ اتارنے

صحرا میں ٹھہرے اور کبھی دشت میں پھرے
ہم کو دکھائی سیر یہ فصل بہار نے

اوگھٹؔ غرور کیوں نہ بتوں کو ہو اس قدر
ان کو حسیں بنایا ہے پروردگار نے

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم