MOJ E SUKHAN

ابھی مکاں میں ابھی سوئے لامکاں ہوں میں

غزل

ابھی مکاں میں ابھی سوئے لامکاں ہوں میں
ترے خیال تری دھن میں ہوں جہاں ہوں میں

کلی کلی متبسم ہے آرزوؤں کی
قدم قدم پہ محبت میں کامراں ہوں میں

نوا نوا میں مری زندگی مچلتی ہے
رباب حسن و محبت پہ نغمہ خواں ہوں میں

مرا تجسس پیہم ہے زندگی آموز
مجھے قرار نہیں ہے رواں دواں ہوں میں

جہاں تمام اگر مجھ سے سرگراں ہے تو کیا
بذات خود بھی تو اک مستقل جہاں ہوں میں

فنا کی زد سے ہے محفوظ زندگی میری
شعار اپنا محبت ہے جاوداں ہوں میں

یہ اعتبار گل و گلستاں مجھی سے ہے
یہ اور بات کہ پروردۂ خزاں ہوں میں

یہ کون دیکھ رہا ہے مجھے حقارت سے
غبار راہ نہیں میر کارواں ہوں میں

فرید جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم