MOJ E SUKHAN

اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے

غزل

اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے
میں نے سنا تھا آپ کا کمرہ اداس ہے

گردن ہے خودکشی کے بہانے تلاشتی
ہر روز مجھ سے کہتی ہے پنکھا اداس ہے

بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی کو کیا خبر
فٹ پاتھ پر پڑا ہوا چھاتا اداس ہے

کوئی نہ دیکھ پایا تو بولا نہیں کوئی
گونگا ہے بد گمان تو اندھا اداس ہے

پٹری پہ لیٹ جاؤں گا ثروت نہیں ہوں میں
پر جانتا ہوں ریل کا پہیہ اداس ہے

برگد کی شاخ توڑ دی آندھی نے پچھلی رات
اس واسطے تو گاؤں کا بوڑھا اداس ہے

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم