MOJ E SUKHAN

اب بھی رہتا ہے خیالوں میں سمایا ہوا شخص

اب بھی رہتا ہے خیالوں میں سمایا ہوا شخص
اپنی نادانی سے رستے میں گنوایا ہوا شخص

میری قسمت میں نہیں تھا سو وہ میرا نہ ہوا
ہائے وہ خاص عنایت سے بنایا ہوا شخص

جو بھی کوشش کی بھلانے کی وہ ناکام رہی
دل سے جاتا ہی نہیں دل میں سمایا ہوا شخص

کتنی آسانی سے دنیا نے اسے چھین لیا
ایک مدت کی ریاضت سے کمایا ہوا شخص

میں نے تو ترک تعلق کی قسم کھائی تھی
یاد کیوں آتا ہے مجھ کو وہ بھلایا ہوا شخص

میں نے رکھا تھا جسے راز وہ پنہاں نہ رہا
میرے چہرے سے عیاں ہے وہ گنوایا ہوا شخص

ان دعاوں کے حوالے سے گریزاں ہوا کیوں
جن کے باعث ہے یہ تخلیق میں آیا ہواشخص

ناگہانی میں اچانک بھی چلے جاتے ہیں لوگ
کیا بلاوے پہ فقط جائے گا آیا ہوا شخص

فاصلے سارے مٹا دیتی ہے چاہت شمسؔہ
دل کے نزدیک ہے وہ دور سے آیا ہوا شخص

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم