غزل
اب تلک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
مجھ سے کب ہنس کر ملی ہے زندگی اپنی جگہ
آنسوؤں کو لے کے آنکھوں میں کبھی مسکاتی ہے
اور کبھی گل سا کھلی ہے زندگی اپنی جگہ
دشت صحرا میں گزر کا کوئی پیمانہ نہیں
وحشتوں کی آگہی ہے زندگی اپنی جگہ
دیکھ لو کتنا فریبی ہے شکاری کی یہ چال
یوں بساطوں سی بچھی ہے زندگی اپنی جگہ
نیند سے بیدار ہوتے ہی ہوئی روٹی کی چاہ
آنچلوں میں سو گئی ہے زندگی اپنی جگہ
وصل پل بھر کا شغفؔ دیتا ہے فرقت عمر کی
درد دل میں کھو گئی ہے زندگی اپنی جگہ
پروین شغف