MOJ E SUKHAN

اب تلک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ

غزل

اب تلک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
مجھ سے کب ہنس کر ملی ہے زندگی اپنی جگہ

آنسوؤں کو لے کے آنکھوں میں کبھی مسکاتی ہے
اور کبھی گل سا کھلی ہے زندگی اپنی جگہ

دشت صحرا میں گزر کا کوئی پیمانہ نہیں
وحشتوں کی آگہی ہے زندگی اپنی جگہ

دیکھ لو کتنا فریبی ہے شکاری کی یہ چال
یوں بساطوں سی بچھی ہے زندگی اپنی جگہ

نیند سے بیدار ہوتے ہی ہوئی روٹی کی چاہ
آنچلوں میں سو گئی ہے زندگی اپنی جگہ

وصل پل بھر کا شغفؔ دیتا ہے فرقت عمر کی
درد دل میں کھو گئی ہے زندگی اپنی جگہ

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم