MOJ E SUKHAN

اب تو خدا سے ڈر جاؤ

غزل

اب تو خدا سے ڈر جاؤ
پیار محبت کر جاؤ

کیوں پھرتے ہو آوارہ
اب تو خدارا گھر جاؤ

کرتا ہے یہ عشق تقاضا
اپنی جاں سے گزر جاؤ

آخر اس نے کہہ ہی ڈالا
میری بلا سے مر جاؤ

چار دنوں کی دنیا ہے یہ
کام اچھے کچھ کر جاؤ

صحرا میں ہیں لوگ پیاسے
پانی لے کر تھر جاؤ

وقت تجھے سمجھاتا ہے یہ
اب بھی یار سدھر جاؤ

خیر کو ہی پھیلاؤ ساغرؔ
مت پھیلا کے شر جاؤ

عبد المجید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم