غزل
اب تو خدا سے ڈر جاؤ
پیار محبت کر جاؤ
کیوں پھرتے ہو آوارہ
اب تو خدارا گھر جاؤ
کرتا ہے یہ عشق تقاضا
اپنی جاں سے گزر جاؤ
آخر اس نے کہہ ہی ڈالا
میری بلا سے مر جاؤ
چار دنوں کی دنیا ہے یہ
کام اچھے کچھ کر جاؤ
صحرا میں ہیں لوگ پیاسے
پانی لے کر تھر جاؤ
وقت تجھے سمجھاتا ہے یہ
اب بھی یار سدھر جاؤ
خیر کو ہی پھیلاؤ ساغرؔ
مت پھیلا کے شر جاؤ
عبد المجید ساغر