MOJ E SUKHAN

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں

غزل

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں
جن لوگوں نے درد دیا ہے میں ان کو افسانے دوں

اور ذرا سی دیر میں تھک کر سو جائیں گے تارے بھی
کب تک گھائل ہونٹوں کو میں گیت برہ کے گانے دوں

اپنے جنوں کا سینہ چھلنی ہونے دوں میں کب تک اور
اتنے سارے فرزانے ہیں کس کس کو سمجھانے دوں

کب تک وہ ملہار کی تانیں قید میں رکھیں دیکھوں تو
اب تو دیپک راگ الاپوں اور خود کو جل جانے دوں

میں مجبور اکیلا راہی لیکن راہبر اتنے ہیں
کس کس کی اگواہی مانوں کس کس کو بہکانے دوں

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم