MOJ E SUKHAN

اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئی

غزل

اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئی
سوز یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئی

پتھراؤ ہو رہا ہے ہمارے مکان پر
کیا جرم ہو گیا ہے بتاتا نہیں کوئی

اپنے پڑوسیوں کی حفاظت کے واسطے
راتوں کی میٹھی نیند گنواتا نہیں کوئی

غم تو کہانیوں کی طرح سب نے سن لیا
لیکن کوئی علاج بتاتا نہیں کوئی

جب سے تری گلی کا پتا مل گیا ہمیں
شہر ہوس کی سمت بلاتا نہیں کوئی

آبادیوں میں گھر کا بنانا تو سہل ہے
ویران بستیوں کو بساتا نہیں کوئی

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم