MOJ E SUKHAN

اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہم

اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہم
اپنی تباہیوں پہ چراغاں کریں گے ہم

خود تو کبھی نہ آئے گی ہونٹوں پہ اب ہنسی
ہاں دوسروں کے ہنسنے کا ساماں کریں گے ہم

کیا تھی خبر کہ حد سے گزر جائے گا جنوں
ہاتھوں سے اپنے چاک گریباں کریں گے ہم

پھر جامۂ جنوں کی کریں گے رفوگری
پھر انتظار فصل بہاراں کریں گے ہم

ساغرؔ بہت گزاری گناہوں میں زندگی
اب کچھ نہ کچھ نجات کا ساماں کریں گے ہم

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم