MOJ E SUKHAN

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہے

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہے
کوئی ہے نظر بند کوئی شہر بدر ہے

پھر فصل بہار آئی پرندے نہیں آئے
ویران ابھی تک مرے آنگن کا شجر ہے

قامت ہی میسر ہے اسے اور نہ چہرہ
یہ کون سی مخلوق ہے کیسا یہ نگر ہے

میں دھوپ اٹھائے ہوئے چپ چاپ کھڑا ہوں
اس دشت میں ہستی مری مانند شجر ہے

پھر دیکھنا یہ عمر بھی بڑھ جائے گی کچھ روز
اس شخص کے لوٹ آنے کا امکان اگر ہے

جو شہر تھا وہ قریۂ ویران ہے زلفیؔ
جو گھر تھا کسی دور میں اب راہ گزر  ہے

تسلیم الہٰی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم