MOJ E SUKHAN

اب صبح کوئی دم ساز نہیں اب شام نہیں دلدار کوئی

اب صبح کوئی دم ساز نہیں اب شام نہیں دلدار کوئی
یا شہر کے رستے بند ہوئے یا دل میں اُٹھی دیوار کوئی

وہ شہر نہیں ، وہ دور نہیں ، وہ لوگ نہیں ، وہ طور نہیں
سر اپنا اُٹھا کر کون چلے ، کیا سر پہ رکھے دستار کوئی

اب کے تو صبا بھی تنگ آ کر اس وادیِ گُل سے لوٹ گئی
سب نیند میں چلتے پھرتے ہیں کس کس کو کرے بیدار کوئی

شاموں کے جن سے ناتے تھے بے یاد گئے بھی آتے تھے
جب خیر خبر کی شب آئی ، آیا نہ ادھر غم خوار کوئی

اک خیمۂ حلقہ بگوشاں اسے اک سرحدِ بابِ حریفاں تک
سب دور کی باتیں کرتے ہیں ، چلنے کو نہیں تیار کوئی

آواز کی جانب آنکھیں ہیں اس سمت بہ سمت خموشی میں
چُپ چاپ گزرتا رہتا ہے ، رفتار سے بے رفتار کوئی

اب راہ کے پیچ و خم بھی نہیں اب پہلے جیسے ہم بھی نہیں
سارے یہ دلوں کے قصے ہیں پر دل ہی نہیں ہموار کوئی

نازاں تھے بہت تم لفظوں پر کیوں گُم ہو نصیرؔ اس سوچ میں اب
لفظوں سے ورا ہیں خواب یہاں ، ہر خواب میں ہے آزار کوئی ​

نصیرؔ ترابی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم