MOJ E SUKHAN

اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا

غزل

اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا
دنیا کو اعتبار ہمارا نہیں رہا

اس فرط غم میں خون کے آنسو ٹپک پڑے
اب دل بھی رازدار ہمارا نہیں رہا

اس کی حضور پیر مغاں میں ہے منزلت
جو عہد پائیدار ہمارا نہیں رہا

ہر داغ ابھر کے زخم بنا زخم رشک گل
دل مائل بہار ہمارا نہیں رہا

یہ ہے مآل صحبت زاہد جناب دل
رندوں میں اب شمار ہمارا نہیں رہا

دل شاہجہاں پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم