MOJ E SUKHAN

اب کے حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھ

غزل

اب کے حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھ
شہر گلاب میں کبھی کانٹوں پہ چل کے دیکھ

جو بھی ہے جیسا اس کو اسی طرز سے پرکھ
اس کو بدل کے دیکھ نہ خود کو بدل کے دیکھ

اوروں کی آگ کیا تجھے کندن بنائے گی
اپنی بھی آگ میں کبھی چپ چاپ جل کے دیکھ

جو تیرے راستے میں ہیں پتھر پڑے ہوئے
گر کے تو ان پہ دیکھ لیا اب سنبھل کے دیکھ

چہرہ ہمیشہ کیوں پس غازہ چھپا رہے
اس پہ تو اپنے خون کا بھی رنگ مل کے دیکھ

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم