MOJ E SUKHAN

اب کے درپیش مشکل سفر ہے توجہ رہے صاحبا

Ab Kay Darpesh Mushkil Safar Hay Tawaja Rahay Sahiba

غزل

اب کے درپیش مشکل سفر ہے توجہ رہے صاحبا
پھر سفر کی طوالت کا ڈر ہے توجہ رہے صاحبا

یاس چہرے پہ پھیلی ہے , منتر کا جھاڑن پھرا جسم پر
مجھ پہ جادو گری کا اثر ہے, توجہ رہے صاحبا

یہ سبھی آسرے یہ سہارے ہیں بیکار بیساکھیاں
بس مرے سامنے تیرا در ہے ,توجہ رہے صاحبا

میرا ایمان ہے کہ یہیں سے اٹھے گی نوید سحر
تو تو مالک ہے اور کارگر ہے ,توجہ رہے صاحبا

ناسمجھ ہوں بہت سادہ دل ہوں سنبھالا ملے
تو چلوں تیری دنیا بڑی فتنہ گر ہے , توجہ رہے صاحبا

رہزنی ہے نہ طوفان ہے نہ سفر اتنا دشوار ہے
پر کسی سے بچھڑنے کا ڈر ہے توجہ رہے صاحبا

وہ تو دریا ہے اسکے اچانک تلاطم کی کس کو خبر
اور میرا کنارے پہ گھر ہے توجہ رہے صاحبا

فرح گوندل

Farah Gondal

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم