MOJ E SUKHAN

اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے

غزل

اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے
دیکھیں تو کس طرح سے بھٹکتے ہیں قافلے

جو منتظر تھے بات کے منہ دیکھتے رہے
خاموش رہ کے ہم تو بڑی بات کہہ گئے

کب منزلوں نے چومے قدم ان کے ہمدمو
ہر راہ روکے ساتھ جو رہ گیر چل پڑے

جانے زباں کی بات تھی یا رنگ روپ کی
ہم آپ اپنے شہر میں جو اجنبی رہے

وہ لوگ خوش نصیب تھے اپنی نگاہ میں
جو ہر کسی کے شوق کی خود داستاں بنے

معلوم جن کا نام و نشاں بھی نہیں ہمیں
ہم ان کا شہر شہر پتہ پوچھتے پھرے

کہنے کو اک جہاں سے الجھتے رہے مگر
اے درد اپنے سائے سے ڈر ڈر کے ہم جئے

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم