MOJ E SUKHAN

اتر کے جھیل میں جب آفتاب مرنے لگے

اتر کے جھیل میں جب آفتاب مرنے لگے
زمیں کے دل پہ مسلظ عذاب مرنے لگے

زمیں کے ہونٹوں پہ ایسے سوال زندہ ہوئے
کہ آسمانوں کے سارے جواب مرنے لگے

میں زندہ ہوکے بھی ہوں اس لحاظ سے مردہ
کہ میرے نام ترے احتساب مرنے لگے

نمی زمین کے کانٹوں نے چوس لی ساری
گلاب رت میں مہکتے گلاب مرنے لگے

کہاں ہے مجھ کو فراموش کرنے والے تو
خبر بھی ہے کہ یہاں میرے خواب مرنے لگے

ستارے آنکھوں کہ بجھنے لگے نسیم آخر
نگہ میں تھے جو بدن ماہتاب مرنے لگے

نسیم سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم