MOJ E SUKHAN

اتنا سا ان کی بات کا لبِ لباب تھا

اتنا سا ان کی بات کا لبِ لباب تھا
بارش گھٹائیں بجلیاں رستہ خراب تھا

اک مفلسی کے طاق میں جلتا ہوا دیا
جو شخص اپنی ذات میں خود آفتاب تھا

عرصہ دراز ہوگیا آیا نہ خواب میں
وہ باپ جس کو دیکھنا حج کا ثواب تھا

ہاتھوں کو ڈال کر ترے ہاتھوں میں چل دیے
وہ کلپنا تھی سپنا تھا شاید سراب تھا

لفظوں میں اضطراب تھا لہجے میں استعجاب
حالانکہ ہر سوال میں اسکے جواب تھا

میں نے بغور دیکھےہیں آنکھوں کے دو دیے
ان دو دیوں میں رکھا ہوا آفتاب تھا

ذلفیں دراز نازکی لب جسم مرمری
وہ سر تا پا سوال تھا میں لاجواب تھا

اک لمحہ جس کا ملنا غضنفر محال ہے
وہ شخص صبح و شام مجھے دستیاب تھا

سید غضنفر علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم