MOJ E SUKHAN

اتنا نہ فریب الفت میں یہ جذبۂ کامل آجائے

اتنا نہ فریب الفت میں یہ جذبۂ کامل آجائے
ہر گام قریب منزل ہو ہر گام پہ منزل آجائے

جلوؤں کی نمائش ہے اس میں خود ان کی رہائش ہے اس میں
اب وادیٔ ایمن سے کہہ دو اس دل کے مقابل آجائے

اتنی تو عطا ہو جانیں اتنے تو عطا ہوں دل مجھ کو
ہر ناز پہ اک جاں قرباں ہو ہر غمزے پہ اک دل آجائے

یہ تیری نظر کی رنگینیٔ یہ تیرے قدم کی رعنائی
جس رنگ پہ ساقی تو چاہے اس رنگ پہ محفل آجائے

بیداد محبت کا اے دل محشر میں مزا آجائے گا
اک سمت سے میں ہوں داد طلب اک سمت سے قاتل آجائے

اے خضر کسی نے دنیا میں ایسا بھی سفینہ دیکھا ہے
ہر موج سے ساحل پیدا ہو ہر موج میں ساحل آجائے

اے عشق کی وسعت کیا کہنا اے شوق شہات کیا کہنا
قاتلؔ ہی تڑپ کر مقتل میں خود صورت بسمل آجائے

قاتل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم