MOJ E SUKHAN

اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز

غزل

باقی نہ رہے ہوش جنوں ایسی ہوا تیز
اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز

دن ڈھلنے لگا بڑھنے لگے شام کے سائے
اے سست قدم اب تو قدم اپنے اٹھا تیز

کیا جانیے ظالم نے کسے قتل کیا ہے
کیوں ہاتھوں میں آج اس کے ہوا رنگ حنا تیز

اب منزل مقصود بہت دور نہیں ہے
اے ہم سفرو اور ذرا اور ذرا تیز

دیکھو تو سہی کس کے اشارے پہ چلی ہے
آئی ہے کدھر سے یہ فسادوں کی ہوا تیز

اللہ رے یہ میرے سفینے کا مقدر
دو ہاتھ ہی ساحل تھا کہ طوفان چڑھا تیز

اے شوقؔ مرے حال پہ یہ خوب کرم ہے
جب شمع جلاتا ہوں تو ہوتی ہے ہوا تیز

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم