MOJ E SUKHAN

اتنی شمعیں جل رہی ہیں بزم میں

اتنی شمعیں جل رہی ہیں بزم میں
تیری جانب دیکھنا دشوار ہے

بچیاں شمعیں جلاکے لائی ہیں
ساتھ میں آشاؤں کی ملہار ہے

سینکڑوں ہیں زندگی کے دائرے
سب کے مرکز کا الگ معیار ہے

زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم
زیست کہہ دے گی سفر تیار ہے

تم بھی کس موسم میں آئے ہو یہاں
شہر میں اب خوف کی یلغار ہے

آئنے میں دیکھ کو یاد آئے گا
سانحے کا کون ذمے دار ہے

جیتنے کی آرزو بھی کس لیے
ایک غم تو اک خوشی تیار ہے

چلتے چلتے یہ نگاہیں جھک گئیں
راستے میں روشنی دیوار ہے

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم