MOJ E SUKHAN

اتنی طویل عمر کو جلدی سے کاٹنا

اتنی طویل عمر کو جلدی سے کاٹنا
جیسے دوا کی پنّی کو قینچی سے کاٹنا

چھتّے سے چھیڑ چھاڑ کی عادت مجھے بھی ہے
سیکھا ہے اُس نے شہد کی مکھی سے کاٹنا

رہتا ہے دن میں رات کے ہونے کا انتظار
پھر رات کو دواؤں کی گولی سے کاٹنا

ممکن ہے میں دکھائ پڑوں ایک دن تمہیں
یادوں کا جال اوٗن کی تیلی سے کاٹنا

اک عمر تک بزرگوں کے پیروں میں بیٹھ کر
پتھر کو میں نے سیکھا ہے پانی سے کاٹنا

منور رانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم