MOJ E SUKHAN

اجاڑ گھر میں اداس چہرہ تھا یعنی میں تھا

غزل

اجاڑ گھر میں اداس چہرہ تھا یعنی میں تھا
وہ جس کی آنکھوں میں بہتا دریا تھا یعنی میں تھا

جو پینٹنگ میں حسین لڑکی تھی یعنی تو تھی
جو سر جھکائے اداس لڑکا تھا یعنی میں تھا

وہ تو ہے جس پہ ہے جھیل سیف الملوک مرتی
وہ جس کی مٹھی میں بانجھ صحرا تھا یعنی میں تھا

تم اپنی پہلی محبتوں کے جواز چھوڑو
وہ تیسرا پیار جو تمہارا تھا یعنی میں تھا

سنا ہے تتلی کا استعارہ غزل میں تو تھی
جو چاند گرہن کا استعارہ تھا یعنی میں تھا

تو شاہ زادی عقیق کا تخت چاہتی تھی
جو اپنی ہستی میں بھوت بنگلہ تھا یعنی میں تھا

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم