اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے
کہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے
۔
ہمیں اپنی ہی جانب اب سفر آغاز کرنا ہے
سو مثل نکہت گل ہو کے بے قابو نکل آئے
۔
یہی بے نام پیکر حسن بن جائیں گے فردا کا
سخن مہکے اگر کچھ عشق کی خوشبو نکل آئے
۔
اسی امید پر ہم قتل ہوتے آئے ہیں اب تک
کہ کب قاتل کے پردے میں کوئی دل جو نکل آئے
۔
سمجھتے تھے کہ مہجوری کی ظلمت ہی مقدر ہے
مگر پھر اس کی یادوں کے بہت جگنو نکل آئے
۔
دلوں کو جیت لینا اس قدر آسان ہی کب تھا
مگر اب شعبدے ہیں اور بہت جادو نکل آئے
۔
سفر کی انتہا تک ایک تازہ آس باقی ہے
کہ میں یہ موڑ کاٹوں اس طرف سے تو نکل آئے
پیرزادہ قاصم