MOJ E SUKHAN

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں
ادھر بھی اہل جنوں سر بدلتے رہتے ہیں

بدلتے رہتے ہیں پوشاک دشمن جانی
مگر جو دوست ہیں پیکر بدلتے رہتے ہیں

ہم ایک بار جو بدلے تو آپ روٹھ گئے
مگر جناب تو اکثر بدلتے رہتے ہیں

یہ دبدبہ یہ حکومت یہ نشۂ دولت
کرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں

بیکل اتساہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم