MOJ E SUKHAN

ازل میں ہو نہ ہو یہ جلوہ گاہ روئے جاناں تھا

غزل

ازل میں ہو نہ ہو یہ جلوہ گاہ روئے جاناں تھا
کہ صبح حشر بھی خورشید کا آئینہ لرزاں تھا

جنوں کے سر پہ جب تک پنجۂ وحشت کا ساماں تھا
گریباں تھا ابھی دامن ابھی دامن گریباں تھا

خدا جانے قفس میں کیوں تڑپ کر مر گئی بلبل
یہ دیکھا ہے ابھی بجلی کا رخ سوئے گلستاں تھا

زمین و آسماں کی قید کیسی جوش وحشت میں
جہاں تک بھی نظر پہونچی بیاباں ہی بیاباں تھا

فلک پر ناز امڈتے تھے زمیں سے ناز ابلتے تھے
وہ عالم تھا عجب عالم کہ جب کوئی خراماں تھا

مرے دل کی طرح تھے چاک دونوں عشق کے ہاتھوں
زلیخا کا گریباں تھا کہ وہ یوسف کا داماں تھا

تن مردہ پہ خوف و شوق سے یہ روح کہتی ہے
یہی زنداں تھا گھر اپنا یہی گھر اپنا زنداں تھا

مرے جینے سے موت اچھی قسم ہے بے گناہی کی
وہی دل دے مجھے یا رب کہ جس میں شوق عصیاں تھا

پھری ہے جب کبھی تصویر آنکھوں میں قیامت کی
یہ دیکھا ہے کہ اپنے ہاتھ میں اپنا گریباں تھا

سیاہی شام فرقت کی سمٹ آئی تھی آنکھوں میں
کہ روز حشر نظروں میں مری شام غریباں تھا

لحد سے قید خانے کے بھی قیدی چھٹ گئے لیکن
نہ چھوٹے جس کے قیدی حشر میں بھی دل وہ زنداں تھا

مری نظروں میں اب تک ہے یہ دنیا ناز کی دنیا
ہوئی مدت کہ اک انداز سے کوئی خراماں تھا

وداع یار کی تجدید کے ارماں سے مرتے ہیں
وہی ساعت پھر آتی جس میں مر جانے کا ساماں تھا

کسی کو پیار آتا تھا کسی کو ہول آتے تھے
میں اک خواب پریشاں تھا میں اک زلف پریشاں تھا

ضرورت ایسے جلوے کو تھی بے شک ایسے مجمع کی
کھلا اب حشر کے وعدے میں جو کچھ راز پنہاں تھا

خیال و دل نگاہ و چشم کا عالم ہی دیکھا ہے
وہ ہر دم تھا مرے آغوش میں ہر دم گریزاں تھا

یہ کیفیت تھی ان آنکھوں کی بیخودؔ جوش مستی میں
گھٹائیں جھکتی اٹھتی تھیں برس پڑنے کا ساماں تھا

بیخود موہانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم