MOJ E SUKHAN

اسی لیے ترے دعوؤں پہ مسکرا رہے ہیں

اسی لیے ترے دعوؤں پہ مسکرا رہے ہیں
ہم اپنا ہاتھ تری پُشت سے اُٹھا رہے ہیں

بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہے
شکستہ آئینے ترتیب سے لگا رہے ہیں

وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سَرا ہے صدیوں سے
یہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہِلا رہے ہیں

ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیے
ضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں

ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہے
ابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں

اظہر فراغ​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم