MOJ E SUKHAN

اسی وسیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

اسی وسیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے
قلم قبیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

جو روز خواب میں اپنی طرف بلاتا ہے
ضرور ٹیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

کسی کے چہرے کی زردی کو دیکھ یاد آیا
کہ رنگ پیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

اٹھا ہے بزم سے مجھ سے نظر چراتے ہوئے
کہ اس کے حیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

کوئی جو غور سے دیکھے تو آگ لگتی ہے
کہ لب رسیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

گئے دنوں کی گواہی جو اب بھی دیتا ہے
رُمال گیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

بنائے پھرتا ہے پاگل عمر جو دنیا کو
اسی چھبیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

عابد عمر

Aabid Umar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم