MOJ E SUKHAN

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں
ہم اپنی اذیت کو کم کر رہے ہیں

ہماری نگاہوں سے سپنے چرا کر
وہ کس کی نگاہوں میں ضم کر رہے ہیں

حیات رواں کی ہر اک نا روائی
ہم اپنے لہو سے رقم کر رہے ہیں

بھلی کیوں لگے ہم کو خوشیوں کی دستک
ابھی ہم محبت کا غم کر رہے ہیں

کسے دکھ سنائیں سبھی تو یہاں پر
شمار اپنے اپنے الم کر رہے ہیں

سخن کو سیاست کا زینہ دکھا کر
تماشہ یہ اہل قلم کر رہے ہیں

فریحہ نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم