MOJ E SUKHAN

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا

غزل

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا
مگر مجھ سے ہی سننا چاہتا ہے وہ بیاں اپنا

یہاں پر شان جاتی ہے وہاں پر جان جاتی ہے
زمیں چھوٹی تو لگتا ہے کہ چھوٹا آسماں اپنا

جو گزرا ہے سو گزرا ہے جو آئے گا سو آئے گا
جو اب ہے وہ بھلا کب ہے کوئی لمحہ کہاں اپنا

میں جس کے دل میں رہتا ہوں میں جس کی دھن میں رقصاں ہوں
وہ اپنی دھن پہ گاتا ہے تو ہوتا ہے گماں اپنا

وہاں خاموش بیٹھے تھے یہاں تو بات کرتے ہیں
وہاں کیوں تھا زیاں اپنا یہاں کیوں ہو زیاں اپنا

یہ صدیاں بیت جاتی ہیں مگر لمحے نہیں کٹتے
جو گھٹتا ہے تو بڑھ جاتا ہے کچھ بار گراں اپنا

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم