MOJ E SUKHAN

اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا

غزل

اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا
وہاں رک جانا وہاں رہ جانا وہاں سکھ کا اجالا آئے گا

یہ سوچ کے اٹھنا ہر دن تم اس دل کا پھول کھلے گا ضرور
اس آس پہ سونا اب کی شب کوئی خواب نرالا آئے گا

جب اس کے ہاتھ نیا ماضی اس صفحۂ ارض پہ لکھیں گے
جب سحر و شام رقم ہوں گے تب میرا حوالہ آئے گا

اس بے اندیشہ صحرا میں اس اونگھنے والی امت پر
کب جاگنے والا اترے گا کب سوچنے والا آئے گا

پھر روحیں زخمی زخمی ہیں پھر کوڑھ سے دکھنے آئے بدن
یوں لگتا ہے کہ شفاعت کو پھر کوئی گوالا آئے گا

اے راہ سخن کے راہروو دل شاد رہو اس راہ میں بھی
خوشبو کی سواری ٹھہرے گی رنگوں کا پیالہ آئے گا

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم