MOJ E SUKHAN

اس خرابے میں جو بے رخت و ردا رہتا ہوں

اس خرابے میں جو بے رخت و ردا رہتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ رہتا ہوں پہ کیا رہتا ہوں

صبح چلتا ہوں کسی گوشہء بے نام کی اور
شام ہوتی ہے تو اس کنج میں آ رہتا ہوں

یا چمکتا ہوں کسی اور ہی سیارے پر
یا کسی اور ہی آنگن میں کھلا رہتا ہوں

یا مہکتا ہوں میں اپنے ہی کسی موسم میں
یا کسی اور ہی خوشبو میں بسا رہتا ہوں

یا چھلکتا ہوں کسی آنکھ سے آنسو بن کر
یا کسی دل میں پسِ حرفِ دعا رہتا ہوں

یا کسی اور ہی کردار میں آ جاتا ہوں
یا اسی ایک کہانی میں چھپا رہتا ہوں

مجھ پہ جو کھلتا ہے وہ اور ہی عالم ہے عتیق
میں کسی اور ہی عالم پہ کھلا رہتا ہوں

عتیق احمد جیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم